دجّالی فتنے کی خدوخال از روئے سورةالکہف حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی

https://vdocuments.mx/download/-5695d0721a28ab9b02927e9d.html
#drisrar
#bayanulquran
#surahkahf
#

سُورۃُ الکَہْف

تمہیدی کلمات
سورۃ الکہف اور سورۂ بنی اسرائیل کا آپس میں جوڑے اور زوجیت کا تعلق ہے۔ دونوں سورتوں کے بارہ بارہ رکوع ہیں اورآیات کی تعداد بھی تقریباً برابر ہے۔ دونوں کے عین وسط میں حضرت آدمؑ اور ابلیس کا واقعہ بیان ہوا ہے اور اس ضمن میں اس حد تک مشابہت ہے کہ نہ صرف دونوں سورتوں کے ساتویں رکوع کا آغاز اس واقعہ سے ہوتا ہے بلکہ دونوں جگہوں پر واقعہ کی ابتدا بھی ایک ہی آیت سے ہو رہی ہے۔ ان کی نسبت زوجیت سے متعلق اہم نکات کا ذکر سورۂ بنی اسرائیل کے آغاز میں بھی ہو چکا ہے‘ جبکہ میری کتاب ’’قرآن حکیم کی سورتوں کے مضامین کا اجمالی تجزیہ ‘‘ میں اس مضمون کو مزید جامعیت کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آخری آیت اور سورۃ الکہف کی ابتدائی آیت میں ایک خاص ربط و تعلق ہے‘ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں سورتیں ایک ساتھ قرآن میں وارد ہوئی ہیں اور ریل کے ڈبوں کی طرح باہم interlocked ہیں۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آخری آیت کاآغاز {وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ…} کے الفاظ سے ہو رہا ہے‘ یعنی اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد کا حکم دیا جا رہا ہے ‘ جبکہ سورۃ الکہف کا آغاز {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ…} کے الفاظ سے ہو رہا ہے۔ گویا یہاں اس حکم کی تعمیل ہو رہی ہے۔
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
آیات ۱تا ۸
{اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰی عَبۡدِہِ الۡکِتٰبَ وَ لَمۡ یَجۡعَلۡ لَّہٗ عِوَجًا ؕ﴿ٜ۱﴾قَیِّمًا لِّیُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِیۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡہُ وَ یُبَشِّرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ الَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمۡ اَجۡرًا حَسَنًا ۙ﴿۲﴾مَّاکِثِیۡنَ فِیۡہِ اَبَدًا ۙ﴿۳﴾وَّ یُنۡذِرَ الَّذِیۡنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ٭﴿۴﴾مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِہِمۡ ؕ کَبُرَتۡ کَلِمَۃً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ؕ اِنۡ یَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا کَذِبًا ﴿۵﴾فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ عَلٰۤی اٰثَارِہِمۡ اِنۡ لَّمۡ یُؤۡمِنُوۡا بِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ اَسَفًا ﴿۶﴾اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَی الۡاَرۡضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبۡلُوَہُمۡ اَیُّہُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾وَ اِنَّا لَجٰعِلُوۡنَ مَا عَلَیۡہَا صَعِیۡدًا جُرُزًا ؕ﴿۸﴾}

آیت ۱ {اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰی عَبۡدِہِ الۡکِتٰبَ } ’ ’کل ُحمد و ثنا اور کل ُشکر اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب‘‘
رسول اللہﷺ کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو تعلق اور نسبت ہے اسے یہاں لفظ ’’عبد‘‘ سے نمایاں فرمایا گیا ہے۔

{وَ لَمۡ یَجۡعَلۡ لَّہٗ عِوَجًا ؕ﴿ٜ۱﴾} ’’اور اس میں اُس نے کوئی کجی نہیں رکھی۔‘‘
آیت ۲ {قَیِّمًا لِّیُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِیۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡہُ } ’’(یہ کتاب) بالکل سیدھی ہے ‘تا کہ وہؐ خبردار کرے ایک بہت بڑی آفت سے اُس کی طرف سے‘‘
یعنی نبی اکرمﷺپر نزول ِقرآن کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ آپؐ لوگوں کو ایک بہت بڑی آفت کے بارے میں خبردار کر دیں۔ یہاں لفظ 
بَاْسًا بہت اہم ہے۔ یہ لفظ و احد ہو تو اس کا مطلب جنگ ہوتا ہے اور جب بطور جمع آئے تو اس کے معنی سختی‘مصیبت‘بھوک‘تکلیف وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ جیسے سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۷۷(آیت البر) میں یہ لفظ بطور واحد بھی آیا ہے اور بطور جمع بھی: {وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ} ۔ چنانچہ وہاں دونوں صورتوں میں اس لفظ کے معنی مختلف ہیں: ’’الْْبَاْسَآئِ‘‘ کے معنی فقر و تنگدستی اور مصائب و تکالیف کے ہیں جبکہ ’’وَحِیْنَ الْبَاْسِ‘‘ سے مراد جنگ کا وقت ہے۔
بہر حال آیت زیر نظر میں 
’’بَاْسًا شَدِیْدًا‘‘ سے ایک بڑی آفت بھی مراد ہو سکتی ہے اور بہت شدید قسم کی جنگ بھی۔ آفت کے معنی میں اس لفظ کا اشارہ اس دجالی فتنہ کی طرف ہے جو قیامت سے پہلے ظاہر ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو دجال کے فتنے سے خبردار نہ کیا ہو‘ کیونکہ یہ فتنہ ایک مؤمن کے لیے سخت ترین امتحان ہو گااور پوری انسانی تاریخ میں اس فتنے سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہے۔
دوسری طرف اس لفظ 
(بَاْسًا شَدِیْدًا) کو اگر خاص طور پر جنگ کے معنی میں لیا جائے تو اس سے ’’المَلحَمۃُ الْعُظمٰی‘‘ مرادہے اور اس کا تعلق بھی فتنہ دجال ہی سے ہے۔کتب احادیث (کتاب الفتن‘ کتاب آثار القیامۃ‘ کتاب الملاحم وغیرہ ) میں اس خوفناک جنگ کا ذکر بہت تفصیل سے ملتا ہے۔ عیسائی روایات میں اس جنگ کو’’ہرمجدون‘‘ (Armageddon) کا نام دیا گیا ہے۔ بہر حال حضرت مسیح علیہ السلام کے تشریف لانے اور ان کے ہاتھوں دجال کے قتل کے بعد اس فتنہ یا جنگ کا خاتمہ ہو گا۔
بہت سی احادیث میں ہمیں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ دجالی فتنہ کے ساتھ سورۃ الکہف کی ایک خاص مناسبت ہے اور اس فتنہ کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے اس سورۃ کے ساتھ ذہنی اور قلبی تعلق قائم کرنا بہت مفید ہے۔ اس مقصد کے لیے احادیث میں جمعہ کے روز سورۃ الکہف کی تلاوت کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے‘ اوراگر پوری سورت کی تلاوت نہ کی جا سکے تو کم از کم اس کی ابتدائی اور آخری آیات کی تلاوت کرنا بھی مفیدبتایاگیا ہے۔
یہاں پر دجالی فتنہ کی حقیقت کے بارے میں کچھ وضاحت بھی ضروری ہے۔ ’’دجل‘‘ کے لفظی معنی دھوکہ 
اور فریب کے ہیں۔ اس مفہوم کے مطابق ’’دجال‘‘ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو بہت بڑا دھوکے باز ہو‘ جس نے دوسروں کو دھوکا د ینے کے لیے جھوٹ اور فریب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہو۔ اس لیے نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کو بھی دجال کہا گیا ہے۔ چنانچہ نبی اکرمﷺ نے جن تیس دجالوں کی پیدائش کی خبر دی ہے ان سے جھوٹے نبی ہی مراد ہیں۔ 

دجالیت کے اس عمومی مفہوم کو مدنظر رکھا جائے تو آج کے دور میں مادہ پرستی بھی ایک بہت بڑا دجالی فتنہ ہے ۔ آج لوگوں کے اذہان و قلوب‘نظریات و افکار اور اخلاق و اقدار پر مادیت کا اس قدر غلبہ ہو گیا ہے کہ انسان اللہ کو بھول چکا ہے۔ آج وہ مسبب الاسباب کو بھول کر مادی اسباب پر توکل کرتا ہے ۔ وہ قرآن کے اس فرمان کو یکسر فراموش کر چکا ہے کہ : {وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ﴿۱۸۵﴾} (آل عمران) یعنی دنیوی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے‘ جبکہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ آخرت کی زندگی پر پڑے ہوئے دنیا اور اس کی مادیت کے پردے سے دھوکا کھا کر انسان نے دُنیوی زندگی ہی کو اصل سمجھ لیا ہے‘ لہٰذا اس کی تمام دوڑ دھوپ اسی زندگی کے لیے ہے ۔ اسی زندگی کے مستقبل کو سنوارنے کی اس کو فکر ہے ‘ اور یوں وہ مادّہ پرستی کے دجالی فتنے میں گرفتار ہو چکا ہے۔
اس کے علاوہ دجال اور دجالی فتنے کا ایک خصوصی مفہوم بھی ہے۔ اس مفہوم میں اس سے مراد ایک مخصوص فتنہ ہے جو قرب قیامت کے زمانے میں ایک خاص شخصیت کی وجہ سے ظہور پذیر ہو گا۔ اس بارے میں کتب ِاحادیث میں بڑی تفصیلات موجود ہیں‘ لیکن بعض روایات میں کچھ پیچیدگیاں بھی ہیں اور تضادات بھی۔ ان کو سمجھنے کے لیے اعلیٰ علمی سطح پر غور و فکر کی ضرورت ہے‘ کیونکہ ظاہری طور پر نظر آنے والے تضادات میں مطابقت کے پہلوئوں کو تلاش کرنا اہل ِعلم کا کام ہے۔ بہر حال یہاں ان تفاصیل کا ذکراور ان پر تبصرہ کرنا ممکن نہیں۔ اس موضوع کے بارے میں یہاں صرف اس قدر جان لینا ہی کافی ہے کہ رسول اللہﷺنے قرب قیامت کے زمانے میں دجال کے ظاہر ہونے اور ایک بہت بڑا فتنہ اٹھانے کے بارے میں خبریں دی ہیں۔ جو حضرات اس حوالے سے تفصیلی معلومات چاہتے ہوں وہ مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب ’’تفسیر سورۃ الکہف‘‘ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اس موضوع پر ’’دنیا کی حقیقت‘‘ کے عنوان سے میری ایک تقریر کی ریکارڈنگ بھی دستیاب ہے‘ جس میں میں نے سورۃ الکہف کے مضامین کا خلاصہ بیان کیا ہے۔

{وَ یُبَشِّرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ الَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمۡ اَجۡرًا حَسَنًا ۙ﴿۲﴾} ’’اور (تاکہ) وہ بشارت دے اُن اہل ایمان کو جو نیک عمل کرتے ہوں کہ ان کے لیے ہو گا بہت اچھا بدلہ۔‘‘
آیت ۳ {مَّاکِثِیۡنَ فِیۡہِ اَبَدًا ۙ﴿۳﴾} ’’ وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔‘‘
آیت ۴ {وَّ یُنۡذِرَ الَّذِیۡنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ٭﴿۴﴾} ’’ اور خبردار کر دے اُن لوگوں کو جنہوں نے کہا کہ اللہ نے بیٹا بنایا ہے۔‘‘
دورِ حاضر کی دجالیت کی اصل جڑ موجودہ مسیحیت ہے جس کی بنیاد تثلیث پر رکھی گئی ہے اور اب اسے
 مسیحیت کے بجائے Paulism کہنا زیادہ درست ہے۔ اس میں سب سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیا گیا۔ پھر اس میں کفارے کا عقیدہ شامل کیا گیا کہ جو کوئی بھی حضرت مسیحؑ پر ایمان لائے گا اسے تمام گناہوں سے پیشگی معافی مل جائے گی۔ اس کے بعد شریعت کو ساقط کر کے اس سلسلے میں تمام اختیارات پوپ کو دے دیے گئے‘کہ وہ جس چیز کو چاہے حلال قرار دے اور جس کو چاہے حرام۔ ان تحریفات کی وجہ سے یورپ میں عام لوگوں کو لفظ ’’مذہب‘‘ سے ہی شدید نفرت ہو گئی۔ پھر جب ہسپانیہ میں مسلمانوں کے زیر اثر جدید علوم کو فروغ ملاتو فرانس ‘اٹلی‘جرمنی وغیرہ کے بے شمار نوجوانوں نے قرطبہ‘غرناطہ اور طلیطلہ کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لیا۔یہ نوجوان حصول تعلیم کے بعد جب اپنے اپنے ممالک میں واپس گئے تو یورپ میں ان کی نئی فکر کی وجہ سے اصلاحِ مذہب (Reformation) اور احیائے علوم (Renaissance) کی تحریکات شروع ہوئیں۔ ان کی وجہ سے یورپ کے عام لوگ جدید علوم کی طرف راغب تو ہوئے مگر معاشرے میں پہلے سے موجود مذہب مخالف جذبات کی وجہ سے مذہب دشمنی خود بخود اس تحریک میں شامل ہو گئی۔ نتیجتاً جدید علوم کے ساتھ مذہب سے بیزاری‘ روحانیت سے لا تعلقی‘آخرت سے انکار اور خدا کے تصور سے بیگانگی جیسے خیالات بھی یورپی معاشرے میں مستقلاً جڑ پکڑ گئے‘ اور یہ سب کچھ عیسائیت میں کی جانے والی مذکورہ تحریفات کا ردِ عمل تھا ۔ آیت زیر نظر میں انہی لوگوں کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے یہ عقیدہ ایجاد کیا تھا کہ مسیحؑ (نعوذ باللہ) اللہ کا بیٹا ہے۔
آیت ۵ {مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِہِمۡ ؕ } ’’ انہیں اس کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں اور نہ ہی ان کے آباء و اَجداد کو تھا۔‘‘
انہوں نے یہ جو عقیدہ ایجاد کیا ہے اس کی نہ تو ان کے پاس کوئی علمی سند ہے اور نہ ہی ان کے آباء و اَجداد کے پاس تھی۔

{کَبُرَتۡ کَلِمَۃً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ؕ } ’’ بہت بڑی بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے۔‘‘
یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے اولاد منسوب کر کے اس کی شان میں بہت بڑی گستاخی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

{اِنۡ یَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا کَذِبًا ﴿۵﴾} ’’ وہ نہیں کہتے مگر سرا سر جھوٹ۔‘‘
آیت ۶ {فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ عَلٰۤی اٰثَارِہِمۡ اِنۡ لَّمۡ یُؤۡمِنُوۡا بِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ اَسَفًا ﴿۶﴾} ’’ تو (اے نبیﷺ!) آپ شاید اپنے آپ کو غم سے ہلاک کر لیں گے ان کے پیچھے‘اگر وہ ایمان نہ لائے اس بات (قرآن) پر۔‘‘
تثلیث جیسے غلط عقائد کے جو بھیانک نتائج مستقبل میں نسل انسانی کے لیے متوقع تھے ان کے تصور اور اِدراک سے رسول اللہ ﷺ پرشدید دباؤ تھا۔ آپؐ خوب سمجھتے تھے کہ اگر یہ لوگ قرآن پر ایمان نہ لائے اور اپنے موجودہ مذہب پر ہی قائم رہے تو ان کے غلط عقائد کے سبب دنیا میں دجالیت کا فتنہ جنم لے گا‘جس کے اثرات نسل انسانی کے لیے تباہ کن ہو ں گے۔ یہی غم تھا جو آپؐ کی جان کو گھلائے جا رہا تھا۔
آیت ۷ {اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَی الۡاَرۡضِ زِیۡنَۃً لَّہَا } ’’یقینا ہم نے بنا دیا ہے جو کچھ زمین پر ہے اسے اس کا
 بناؤ سنگھار‘‘
یہاں یہ نکتہ ذہن نشین کر لیجئے کہ لفظ ’’زینت‘‘ اور دُنیوی آرائش و زیبائش کا موضوع اس سورت کے مضامین کا عمود ہے۔ یعنی دنیا کی رونق ‘چمک دمک اور زیب وزینت میں انسان اس قدر کھو جاتا ہے کہ آخرت کا اسے بالکل خیال ہی نہیں رہتا۔دنیا کی یہ رنگینیاں امریکہ اور یورپ میں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ انہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور انسان اس سب کچھ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہی وجہ ہے کہ آج ہم امریکی اور یورپی اقوام کی علمی ترقی سے متاثر اور ان کے مادی اسباب و وسائل سے مرعوب ہیں۔اپنی اسی مرعوبیت کے باعث ہم ان کی لادینی تہذیب و ثقافت کے بھی دلدادہ ہیں اور ان کے طرزِ معاشرت کو اپنانے کے بھی درپے ہیں۔

{لِنَبۡلُوَہُمۡ اَیُّہُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾} ’’تا کہ انہیں ہم آزمائیں کہ ان میں کون بہتر ہے عمل میں۔‘‘
دُنیا کے یہ ظاہری ٹھاٹھ باٹھ دراصل انسان کی آزمائش کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ ایک طرف دنیا کی یہ سب دلچسپیاں اور رنگینیاں ہیں اور دوسری طرف اللہ اور اس کے احکام ہیں۔ انسان کے سامنے یہ دونوں راستے کھلے چھوڑ کر دراصل یہ دیکھنا مقصود ہے کہ وہ ان میں سے کس کا انتخاب کرتا ہے۔ دنیا کی رنگینیوں میں کھوجاتاہے یا اپنے خالق و مالک کو پہچانتے ہوئے اس کے احکام کی تعمیل کو اپنی زندگی کا اصل مقصود سمجھتا ہے۔اس سلسلے میں کسی شاعر کا یہ شعر اگرچہ شانِ باری تعالیٰ کے لائق تو نہیں مگر اس مضمون کی وضاحت کے لیے بہت خوب ہے: ؎
رُخ ِروشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
اِدھر آتا ہے دیکھیں یا اُدھر پروانہ جاتا ہے!
اب جس پروانے (انسان) کو اس شمع کی ظاہری روشنی اور چمک اپنی طرف کھینچ لے گئی تو وہ {فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۱۹﴾ؕ} (النسائ) کے مصداق تباہ وبرباد ہو گیا اور جو اس کی ظاہری اور وقتی چکا چوند کو نظر انداز کر کے حسن ازلی اور اللہ کے جلال و کمال کی طرف متوجہ ہو گیا وہ حقیقی کامیابی اور دائمی نعمتوں کا مستحق ٹھہرا۔
آیت ۸ {وَ اِنَّا لَجٰعِلُوۡنَ مَا عَلَیۡہَا صَعِیۡدًا جُرُزًا ؕ﴿۸﴾} ’’اور یقینا ہم بنا کر رکھ دیں گے جو کچھ اس (زمین) پر ہے اسے ایک چٹیل میدان۔‘‘
قیامت برپا ہونے کے بعد اس زمین کی تمام آرائش و زیبائش ختم کر کے اسے ایک صاف ہموار میدان میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ نہ پہاڑ اور سمندر باقی رہیں گے اور نہ یہ حسین ود لکش عمارات ۔اس وقت زمین کی سطح ایک ایسے کھیت کا منظر پیش کر رہی ہو گی جس کی فصل کٹ چکی ہو اور اس میں صرف بچا کھچا سوکھا ُچورا اِدھر اُدھر بکھراپڑا ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

chatbot health tech Ai

Critical thinking